22 ستمبر، 2026، 8:16 PM

بحرین میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان ایک طیارہ بردار جہاز کے برابر ہے، عرب مبصر

بحرین میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان ایک طیارہ بردار جہاز کے برابر ہے، عرب مبصر

خطے کے تجزیہ کار نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران نے خطے میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے، لکھا ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو پہنچنے والا نقصان ایک طیارہ بردار جہاز کے برابر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے کے امور کے اسٹریٹجک تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے ایک مضمون میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف کی جانب سے امریکہ کے جدید ایف-35 اسٹیلتھ طیاروں کو دی گئی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس دھمکی کا پیغام یہ ہے کہ ایران اب ایسے جدید طیاروں کو مار گرانے کے لیے میزائل دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی کے ہر مرحلے میں ایران کی جانب سے نئے ہتھیار اور میزائل سامنے آئے، جنہوں نے امریکی اور اسرائیلی فریقوں کو حیران و پریشان کر دیا۔

عطوان کے مطابق، امریکی وزارتِ جنگ کے لیے سب سے بڑا دھچکا یہ ہے کہ ایرانی فضائیہ نے تقریباً 46 امریکی طیارے مار گرائے، جن میں بعض اسٹیلتھ طیارے بھی شامل ہیں، جن کا سراغ لگانا اور انہیں نشانہ بنانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 10 جدید ایف-15 جنگی طیارے، تقریباً 12 معاون طیارے، جن میں فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں اور اس کے علاوہ ایم کیو-9 قسم کے 30 ڈرونز اور ایک آواکس (AWACS) طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا، جس کی جدید ریڈار ٹیکنالوجی کے باعث قیمت 400 ملین ڈالر ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ معاہدے کے تحت امریکہ کے پہلے اسٹیلتھ طیارے کی سعودی فضائیہ کو فراہمی، معاہدے پر دستخط کے پانچ سال بعد ہوگی۔ تاہم ان پانچ برسوں کے دوران مغربی ایشیاء میں متعدد سیاسی اور عسکری تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ ان میں خطے سے امریکی فوجیوں یا اڈوں کا انخلا بھی شامل ہو سکتا ہے، جو خطے میں امریکہ کے تقریباً یقینی انخلاء یا اس کے اڈوں کی تباہی کے نتیجے میں عمل میں آ سکتا ہے۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاشبہ امریکی اسٹیلتھ طیارہ دشمن کے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے اہم اور مؤثر ترین طیاروں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس کا سراغ لگانا یا اسے مار گرانا مشکل ہے؛ تاہم ایران کے دفاعی میزائل نظام گزشتہ سات ماہ کی جنگ کے دوران ان طیاروں میں سے پہلے طیارے کو مار گرا کر اس دعوے کو کامیابی سے چیلنج کر چکے ہیں۔

عطوان نے کہا کہ ہم اس حقیقت کا انکار نہیں کرتے کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور ایران پر حملے سے قبل اس کا فوجی اسلحہ خانہ، جس میں طیارے اور میزائل شامل ہیں، دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ خانہ تھا؛ لیکن ایران پر حملے کے بعد یہ روایتی تصور تبدیل ہو گیا۔ اس شکست کی سب سے نمایاں وجہ ایران کے ہائپرسونک بیلسٹک میزائلوں کی وہ کامیابی ہے جس کے نتیجے میں خطے کے بیشتر فوجی اڈوں کو تباہ کیا گیا۔

امریکی بحریہ میں خدمات انجام دینے والے جنرل جان کوردل نے دو روز قبل ’’ملٹری ٹائمز‘‘ میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے معاون اڈے کی ایرانی میزائلوں کے ذریعے تباہی، جو امریکی پانچویں بحری بیڑے کے لیے مخصوص ہے، ایک امریکی طیارہ بردار جہاز کی تباہی کے برابر ہے۔

عرب ممالک میں ان اڈوں کی تعمیر پر امریکی وزارتِ خزانہ کو سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کرنے پڑے ہیں۔ اگرچہ خلیجِ فارس کے ممالک نے بھی ان اخراجات کا ایک حصہ برداشت کیا ہے، تاہم اتنی تیزی اور آسانی سے ان اڈوں کی تباہی امریکی فوجی ادارے اور دنیا بھر میں اس کی فوجی ہیبت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

مضمون کے آخر میں زور دیا گیا ہے کہ ایران کی قیادت میں مزاحمتی محور پہلے ہی ’’پیٹریاٹ‘‘ میزائلوں کے افسانے کو ختم کر چکا ہے اور اب اسٹیلتھ طیاروں کو مار گرا کر امریکی اور اسرائیلی افواج کے دفاعی میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر کو دھماکہ خیز میزائلوں کے ذریعے ختم کر رہا ہے۔ لہٰذا اگر قالیباف کہتے ہیں کہ ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جس میں ایف-15 اور ایف-35 اسٹیلتھ طیاروں کا شکار کیا جا رہا ہے اور ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے، تو ان کی بات پر یقین کریں۔

News ID 1941576

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha